Popular Posts

Sunday, 14 December 2014


” آمین “
وہ بھی ڈھلکا کے اپنے چہرے پر
رات جیسا وہ سرمئی آنچل
دھیرے دھیرے سے لب ہلاتا ہے
میں بھی اس کے لبوں کی آہٹ پر
اپنی آنکھوں کو بند کرتا ہوں
دھیرے دھیرے سے لب ہلاتا ہوں

اور ''آمین''بول دیتا ہوں

زینؔ شکیل

1 comment: