Popular Posts

Sunday, 14 December 2014


نسبتِ محبت کیا؟ کارِ بندگی ہے کیا؟
وہ ہے زندگی میری، میری زندگی ہے کیا؟

چاہتوں کی لو دے کر دیپ اک جلایا تھا
کیا تمہارے کمرے میں، اب بھی روشنی ہے کیا؟

آبرو کی دھجیاں مفلسی اُڑاتی ہے
حوصلہ جو دیتی ہے، میری بے بسی ہے کیا؟

غیر سے کہا تم نے، بات مجھ سے کی ہوتی!
کیا کوئی شکایت ہے؟ مجھ سے برہمی ہے کیا؟

آگ بھی لگا لینا، ہاتھ بھی جلا لینا
یہ کوئی تماشہ ہے؟ یہ بھی دللگی ہے کیا؟

مرقدِ محبت پر، چار پھول رکھے ہیں
آخر ان گلابوں سے تیری دشمنی ہے کیا؟

کون سے خیالوں میں شب گزار دیتے ہو؟

زین رتجگوں سے بھی، تیری دوستی ہے کیا؟

زینؔ شکیل

No comments:

Post a Comment