Popular Posts

Sunday, 14 December 2014


بکھر رہا ہے
خیال کوئی
سوال کوئی،
ملال کوئی
کہاں ہے ؟
کس کی؟
مجال کوئی!
کہ آنکھ جھپکے
ترے تصور سے
دور جائے
مگر یہ ضد کہ
ضرور جائے
تمہارے غم میں
سسک سسک کر
اکھڑ چکی ہے
تناب غم کی
مگر کسی کی
مجال کیا ہے !
کہ روک پائے
یہ سلسلہ ہائے
روز و شب
اور
اداس رستہ!
اداسیوں کے
شجر بھی دیکھو
کہ گاہے گاہے
اُگے ہوئے ہیں
تو آؤاپنی
نگاہِ پرنم
سے آب دے کر
نمو بڑھائیں
اداسیوں کی!
کسی کو روکیں
کسی سے روٹھیں
کسے منائیں؟
کسے منا کر
گلے لگائیں؟
کبھی ملو نا
کہ مسکرائیں!
جو آگئے ہو
تو کیا ٹھہرنا
چلو۔۔۔!
اداسی کے پار جائیں

زینؔ شکیل

No comments:

Post a Comment