چند
لمحوں کا ہے زوال مرا
اسکو
آتا نہیں خیال مرا
آپ
کا بھی کوئی جواب نہیں
آپ
سنتے نہیں سوال مرا
رنگ
بھرتا ہوں میں چراغوں میں
تو
نے دیکھا نہیں جمال مرا
چیختی
ہیں خموشیاں مجھ میں
آئیے
دیکھیئے کمال مرا
حوصلہ
ہے ترے فقیروں کا
دیکھ
مجھ کو نہیں ملال مرا
زین
ہنس کر گلے لگاؤں اُسے
لوٹ
آئے جو خوش خیال مرا
زینؔ شکیل
ReplyDeleteزین ہنس کر گلے لگاؤں اُسے
لوٹ آئے جو خوش خیال مرا