Popular Posts

Sunday, 14 December 2014


تجھے دل سے بھلانا چاہئیے تھا
ہمیں بھی مسکرانا چاہئیے تھا

ہمیں پیچھے ہی رکھا ہے کسی نے
ہمیں اگلا زمانہ چاہئیے تھا

ستم یہ ہے مرے دل کے مکیں کو
کوئی بہتر ٹھکانا چاہئیے تھا

ہمیں اچھا لگا اُس کو منانا
اسے پھر روٹھ جانا چاہئیے تھا

کہیں پر کھو گیا چہرے کا نقشہ
مجھے اب لوٹ جانا چاہئیے تھا

زمانے بھر سے فرصت ہو گئی ہے
اُسے اب یاد آنا چاہئیے تھا

کہاں اب زین اس کے کام کا ہے

اسے یہ جان جانا چاہئیے تھا
زینؔ شکیل

No comments:

Post a Comment