Popular Posts

Sunday, 14 December 2014


ہجر کا سوز کیا وصال کا دُکھ
دل پہ چھایا بڑے کمال کا دُکھ

شہرڈوبا ہے حسنِ جاناں میں
ہم پہ طاری ترے جمال کا دُکھ

ایک تجھ کو محبتوں کا ملال
ایک مجھ کو اِسی ملال کا دُکھ

اک طرف تیرے جیتنے کی خوشی
ایک جانب ہے تیری چال کا دُکھ

دل میں اترے ہیں نشتروں سے جواب
ہم نے پایا کسی سوال کا دُکھ

زخم تازہ ہے اس بلندی پر
اب تلک ہے کسی زوال کا دُکھ

میرے ماضی پہ رحم کر دیتے
یوں بکھرتا نہ میرے حال کا دُکھ

ایک دل، وہ بھی مضطرب قیدی
ہے مجھے ایسے یرغمال کا دُکھ

اُسکو غم، بازگشتِ گھنگھرو پر
مجھ کو آہن کی سُرخ تال کا دُکھ

سانس کب پہلے اختیار میں تھی
جل پری کو ہے ایک جال کا دُکھ

تم تو ڈوبے تھے جھیل آنکھوں میں
کیا ملا تھا؟؟ مِرے خیال کا دُکھ!!

کیوں اسے شاعری سے نفرت ہے؟
زین تجھ کو اِسی سوال کا دُکھ

زینؔ شکیل

No comments:

Post a Comment