Popular Posts

Sunday, 14 December 2014


تجھے خود سے نکالا ہے

تجھے محسوس کرنے کے لیے
میں نے ہزاروں کام چھوڑے ہیں
نہ جانے پھر بھی کیوں
مجھ کو لگا یہ سب خسارہ ہے
مجھے تیری محبت ڈھونگ لگتی ہے
ترے وعدے بھی لگتا ہے
کہ اک صدیوں پرانا خط
کسی شوکیس میں رکھا اُٹھاؤں
دھول مٹی صاف کر کے کھولنے بیٹھوں
لفافے سے نکالوں اور
میرے ہاتھ لگنے سے
وہ کاغذ پھٹتا جاتا ہے۔!
مکمل طور پر تو پھٹ کے چور و چور ہو جائے
سو اس سے قبل میں نے سب پرانے خط جلائے ہیں
ترے وعدے بھلائے ہیں

تجھے خود سے نکالا ہے۔۔۔!

زینؔ شکیل

No comments:

Post a Comment