”فرمائش“
افسردہ
سی شکل بنا کر
مجھ
سے بولی
اتنے
دن تو بیت گئے ہیں
مجھ
پر کوئی غزل نہ لکھی
کیا
میں نہیں ہوں شعر تمہارا؟
کیا
میں تمہاری کسی غزل کا
اک
چنچل سا مطلع نہیں تھی؟
چاند،
ہوا، تاروں، پھولوں سے
جب
مجھ کو تشبیع دیتے تھے
میں
بھی ردیف تمہاری بن کر
قافیے
کے سنگ ہو رہتی تھی
اور
تخلص میں بھی تیرے
اِک
دو نقطے میرے بھی تھے!
یاد
ہے تم کو ہائیکو لکھ کر
میرے
نام کیا کرتے تھے
تیرے
شعر کا اِک اِک مصرعہ
میرے
گِرد پھرا کرتا تھا
اب
بھی سارے لفظ تمہارے
مجھ
میں ایک بحر کی مانند
رفتہ
رفتہ یوں بہتے ہیں۔۔
اور
میں تیرا مقطع بن کر
تیری
حد میں رہ جاتی ہوں
آج
مگر اِک فرمائش ہے
مجھ
پر کوئی نظم لکھو تم
جس
میں میرا اور تمہارا
ساتھ
ہو اُجلے پانی جیسا
شیشے
سا شفاف ہو لیکن
شیشے
جیسا جھوٹا نہ ہو۔۔!
آج
مجھے پھر سے لکھو نا۔۔۔!
زینؔ شکیل
No comments:
Post a Comment