Popular Posts

Sunday, 14 December 2014


اور، اِک اور سِتم کرتا جا
میرا کشکول ذرا بھرتا جا

پھینک دے میری گود میں پتھر
ایک احسان کر گزرتا جا

اِک تصور اُبھرتا رہتا ہے
ایک پل کو یہاں ٹھہرتا جا

اِس جہاں کی نظر نہیں اچھی
تُو مِری اَوٹ میں سنورتا جا

پھُول رہنا کوئی کمال نہیں
مثلِ خوشبو کہیں بکھرتا جا

چاند بن کر مری نگاہوں کا
آنکھ کی جھیل میں اُترتا جا

زین شاید کھُلا ہوا ہو کِواڑ

اُس گلی سے ذرا گزرتا جا

زینؔ شکیل

1 comment:


  1. اِس جہاں کی نظر نہیں اچھی
    تُو مِری اَوٹ میں سنورتا جا

    ReplyDelete