یہ
بھی گویا قصور تھا میرا
جانتا
ہوں ضرور تھا میرا
روند
ڈالا ہے بے دھڑک جس کو
دیکھیئے!
دل حضور تھا میرا
اب
تلک وہ نشہ نہیں اترا
جام
تیرا ،سرور تھا میرا
اک
تری بے رخی نے توڑا ہے
مجھ
کو کتنا غرور تھا میرا
شب
سلگتے ہوئے گزاری ہے
سب
چراغوں میں نور تھا میرا
وہ
تجلّی بھی میری اپنی تھی
جل
بجھا ہے جو طور تھا میرا
زین
اس درد سے نجانے کیوں
کوئی
رشتہ ضرور تھا میرا
زینؔ شکیل
No comments:
Post a Comment