Popular Posts

Sunday, 14 December 2014


یہ بھی گویا قصور تھا میرا
جانتا ہوں ضرور تھا میرا

روند ڈالا ہے بے دھڑک جس کو
دیکھیئے! دل حضور تھا میرا

اب تلک وہ نشہ نہیں اترا
جام تیرا ،سرور تھا میرا

اک تری بے رخی نے توڑا ہے
مجھ کو کتنا غرور تھا میرا

شب سلگتے ہوئے گزاری ہے
سب چراغوں میں نور تھا میرا

وہ تجلّی بھی میری اپنی تھی
جل بجھا ہے جو طور تھا میرا

زین اس درد سے نجانے کیوں

کوئی رشتہ ضرور تھا میرا

زینؔ شکیل

No comments:

Post a Comment