Popular Posts

Sunday, 14 December 2014


ایک اجڑی ہوئی زمیں ہوں میں
اجنبی شہر کا مکیں ہوں میں

گو کہ مدت سے دورِ ہجراں ہے
کیا تمہیں یاد بھی نہیں ہوں میں؟

آج کل خود سے دور رہتا ہوں
پاس اپنے بھی اب نہیں ہوں میں

اب مری بندگی سے راضی ہو!!
تیرے در پر جھکی جبیں ہوں میں

نَحن اَقرَب بھی تُو، تُو ای ہر جاء
جانتا ہوں کہیں نہیں ہوں میں!!

تُو ملا ہے تو میں نے جانا ہے
جھوٹ تھا آئینہ! حسیں ہوں میں

تم بھی میرے فسوں میں مت آنا
آج کل سخت دل نشیں ہوں میں

زین الجھا ہوا ہوں مدت سے

میں کہیں اور تھا، کہیں ہوں میں

زینؔ شکیل

No comments:

Post a Comment