کسی
دوا نے اثر کیا ہے؟ نہیں کیا ہے؟
کسی
دعا نے اثر کیا ہے؟ نہیں کیا ہے؟
کہاں
پہ کھویا؟ کہاں ہے پایا؟ کہاں اجاڑا؟
کہاں
کہاں پر سفر کیا ہے؟ نہیں کیا ہے؟
کسی
نے نقطہ لگا کے مجھ کو مٹا دیا تھا
یہ
کس نے زیر و زبر کیا ہے؟نہیں کیا ہے؟
یہ
کس طرح سے ہے زندگی کا چراغ روشن
کسی
نے چہرہ ادھر کیا ہے؟ نہیں کیا ہے؟
کہاں
کہاں ہوں،کہیں کہیں ہوں؟ کہیں نہیں ہوں
بتایہاں
سے کدھر کیا ہے ؟ نہیں کیا ہے؟
جو
وقت میرے بغیر گزرا! وہ کیسا گزرا؟
اداسیوں
میں بسر کیا ہے؟ نہیں کیا ہے؟
جو
نام لکھا، سلام لکھا، کلام لکھا
اسے
ہماری نذر کیا ہے؟ نہیں کیا ہے؟
یہ
تیرے چہرے کا رنگ زردی میں کیسے بدلا؟
بتا
کہاں پر صبر کیا ہے؟ نہیں کیا ہے؟
جسے
سجا کر طویل قصہ بنا دیا تھا!
اسے
ہی کیوں مختصر کیا ہے؟ نہیں کیا ہے؟
تمہیں
جہاں میں،ملا اکیلا، تھا زین میں ہی؟
مجھے
ہی کیوں دربدر کیا ہے؟ نہیں کیا ہے؟
زینؔ شکیل
No comments:
Post a Comment