آزاد
غزل
مرا
ضبط مجھ سے جدا ہوا تو خبر ہوئی
مری
زندگی مرے غم سمیٹ کے لے گئے
مرے
سامنے سے نظر بچا کے گزر گیا
مجھے
روز ملتا تھا کس لئے مرے خواب میں!
ترے
انتظار کی بھینٹ چڑھنے کا شوق تھا
مجھے
اعتماد نے توڑ تاڑ کے رکھ دیا
مری
نیند! کون سے شہر میں ترا گشت ہے؟
کبھی
شام ڈھلتے ہی آیا کر مجھے دیکھنے!
اسی
عین وقت بگڑ گیا مرا حال بھی!
کہیں
شب ہوئی تو بکھر گئے ترے بال بھی
میں
کسی سفر سے کسی سفر میں الجھ گیا
مجھے
ورغلا کے یہ وحشتیں کہیں لے گئیں!
ہے
گری پڑی کسی بارگاہ میں بندگی
ہے
پھٹا ہواکئی خواہشوں کا لباس بھی
کسی
روز درد سے پوچھنا کہیں درد ہے؟
کسی
اور روز یہ پوچھنا تجھے کیا ہوا؟
کسی
روز ضبط سے پوچھنا کہ یہ ضبط کیوں؟
کسی
اور روز یہ پوچھنا تجھے کیا ملا؟
کسی
روز آنکھ سے پوچھنا کہ یہ ابر کیا؟
کسی
اور روز یہ پوچھنا کہ برس گیا؟
کسی
روز جسم سے پوچھنا کسی روح کا!
کسی
اور روز یہ پوچھنا کہ نکل گئی؟
کسی
روز خود سے یہ پوچھنا ،مجھے کیا کِیا؟
کسی
اور روز یہ پوچھنا، میں کہاں گیا؟
زینؔ شکیل
No comments:
Post a Comment