”موسم“
آج
کسی کی زلفیں بھی تو
سلجھی
سلجھی سی لگتی ہیں
آج
مزاجِ یار بھی یارو
پہلے
سا برہم بھی نہیں ہے
آج
کسی کے ساتھ کی چاہت
لفظ
دعائیں مانگ رہے ہیں
مجھ
سے فون پہ جب کہتی ہے
آج
کے جیسا موسم ہو نا۔۔!
آپ
بہت ہی یاد آتے ہیں۔۔!
رِم
جھم رِم جھم موسم ہے نا۔۔!
کتنا
اچھا موسم ہے نا۔۔!
آج
کہ دن پر بھی کچھ لکھیئے۔۔!
ویسے
تو ہر چھوٹی چھوٹی
بات
پہ شاعر بن جاتے ہیں۔۔!
موسم
پر ہی کچھ لکھ دیجے۔۔!
یعنی
وہ کہنا چاہتی تھی
موسم
کو میں ڈھال بنا کر
اُس
کے بارے میں کچھ لکھوں۔۔!
تو
یہ لکھا۔۔!
بارش
ہو یا کالے بادل
دھوپ،
ہوا، سردی یا دھند ہو
چاہے
موسم ہریالی کا
یا
پھر پت جھڑ خون رُلائے
میرے
بادل، میری بارش
مِری
بہاریں، میرے پت جھڑ
دھوپ،
ہَوا، سردی یا دھندلکا
میری
صبحیں ، میری شامیں
”میرے سارے موسم تم سے
میرے
سارے موسم تم ہو۔۔!“
زینؔ شکیل
No comments:
Post a Comment