Popular Posts

Sunday, 14 December 2014


غمِ فرقت کا چارہ ہی نہیں ہے
مرا تجھ بن گزارا ہی نہیں ہے

کہاں ہے آئینے کی راست گوئی
یہ چہرہ تو ہمارا ہی نہیں ہے

پریشاں زلف تھی غم میں تمہارے
اسے ہم نے سنوارا ہی نہیں ہے

تماشہ دیکھنے کو آئے ہیں وہ
جنھیں ذوقِ نظارا ہی نہیں ہے

اُسے کیوں وقت میں شامل کروں میں
اُسے میں نے گزارا ہی نہیں ہے

ہے اُس کی حکمرانی میرے دل پہ
جسے دل میں اُتارا ہی نہیں ہے

اُسے بھی زین میں سننے چلا ہوں
مجھے جس نے پکارا ہی نہیں ہے


زینؔ شکیل

No comments:

Post a Comment