کاسہءدید
لے گدائی کر
آج
تُو صبر آزمائی کر
تنگ
آیا ہوں میں وفاؤں سے
تُو
تو کچھ دیر بے وفائی کر
تیرے
ہونے سے ٹوٹتا ہی نہیں
تُو
مرے ضبط سے جدائی کر
آنکھ
ظلمت میں کھو گئی اپنی
رُخ
ادھر موڑ، روشنائی کر
بے
رخی ہو ،کوئی ستم یا کرم
جو
بھی کرنا ہے انتہائی کر
اب
تجھے کوئی مانتا ہی نہیں
کون
کہتا تھا یوں خدائی کر
کس
طرح اب تجھے دکھائی دوں؟
اور
اندھیروں سے آشنائی کر
وہ
تجھے بھول ہی نہ پائے کبھی
زین
شدت سے بے وفائی کر
زینؔ شکیل
No comments:
Post a Comment