غزل
رُک ہی جاتی کہیں ہَوا، لیکن!!
وہ کہیں بھی نہیں رُکا، لیکن!!
منزلِ پائمال، تھی تو کمال
دل نے پایا بہت مزہ، لیکن!!
جب کبھی درد سا اُبلتا ہے
مسکراتا ہوں بارہا، لیکن!!
آنکھ میری نہ دشت بن جائے
تُو مجھے شوق سے رُلا، لیکن!!
میں کہاں تک فریب کھاؤں گا؟
اُس کا چہرہ ہے دلربا، لیکن!!
میں تجھے روز بھول جاتا ہوں
آج تُو بھی مجھے بھُلا، لیکن!!
زین اُس کو وفا شناسی پر
شوق سے آئینہ دکھا، لیکن!!
شاعر: زینؔ شکیل
No comments:
Post a Comment