This is Zain Shakeel's Shayeri blog. Read, like, Comment and Share if you like our posts. Thank you. Stay Blessed :) regards, Zain Shakeel
Popular Posts
-
چند اشعار کیا رہوں بےقرار؟ جی بہتر ! ہر گھڑی اشکبار؟ جی بہتر ! کیا کہا! ایک بار پھر سے کروں؟ آپ کا اعتبار؟ جی بہتر ! حکم ہ...
-
جسم سے روح کا جدا ہونا کتنا آساں ہے بے وفا ہونا گُر نہ آیا مجھے منانے کا اُس نے سیکھا فقط خفا ہونا کوئی ذرہ کہیں نہ رہ جائے ...
Friday, 19 December 2014
Wednesday, 17 December 2014
Sunday, 14 December 2014
نِت
نئے رنگ سے دیتا ہے مجھے یار سزا
اُس
کی نفرت کے نثار اور مرا پیار سزا
میں
جو تڑپوں تو ترے نام کی پھر آہ بھروں
دے
کے زحمت ہوئی تجھکو، مجھے بے کار سزا
کچھ
سجھائی نہیں دیتا اُسے جب میرے لیے
مجھکو
دے دیتا ہے ہو ہو کے وہ بے زار، سزا
حکم
یہ تھا سرِ مقتل بھی نہ آنکھیں چھلکیں
بن
گیا میرے لیے بس مِرا انکار سزا
صورتِ
حال کوئی بھی ہو، ہمی مجرم ہیں
اُن
سے ملنا بھی سزا، دور سے دیدار سزا
زین
آخر یہ شناسائی ہی ممکن ٹھہری
سو
ہماری بنی آخر یہی غم خوار سزا
زینؔ شکیل
اور،
اِک اور سِتم کرتا جا
میرا
کشکول ذرا بھرتا جا
پھینک
دے میری گود میں پتھر
ایک
احسان کر گزرتا جا
اِک
تصور اُبھرتا رہتا ہے
ایک
پل کو یہاں ٹھہرتا جا
اِس
جہاں کی نظر نہیں اچھی
تُو
مِری اَوٹ میں سنورتا جا
پھُول
رہنا کوئی کمال نہیں
مثلِ
خوشبو کہیں بکھرتا جا
چاند
بن کر مری نگاہوں کا
آنکھ
کی جھیل میں اُترتا جا
زین
شاید کھُلا ہوا ہو کِواڑ
اُس
گلی سے ذرا گزرتا جا
زینؔ شکیل
ہجر
کا سوز کیا وصال کا دُکھ
دل
پہ چھایا بڑے کمال کا دُکھ
شہرڈوبا
ہے حسنِ جاناں میں
ہم
پہ طاری ترے جمال کا دُکھ
ایک
تجھ کو محبتوں کا ملال
ایک
مجھ کو اِسی ملال کا دُکھ
اک
طرف تیرے جیتنے کی خوشی
ایک
جانب ہے تیری چال کا دُکھ
دل
میں اترے ہیں نشتروں سے جواب
ہم
نے پایا کسی سوال کا دُکھ
زخم
تازہ ہے اس بلندی پر
اب
تلک ہے کسی زوال کا دُکھ
میرے
ماضی پہ رحم کر دیتے
یوں
بکھرتا نہ میرے حال کا دُکھ
ایک
دل، وہ بھی مضطرب قیدی
ہے
مجھے ایسے یرغمال کا دُکھ
اُسکو
غم، بازگشتِ گھنگھرو پر
مجھ
کو آہن کی سُرخ تال کا دُکھ
سانس
کب پہلے اختیار میں تھی
جل
پری کو ہے ایک جال کا دُکھ
تم
تو ڈوبے تھے جھیل آنکھوں میں
کیا
ملا تھا؟؟ مِرے خیال کا دُکھ!!
کیوں
اسے شاعری سے نفرت ہے؟
زین
تجھ کو اِسی سوال کا دُکھ
زینؔ شکیل
آج
دل کو بے قراری اور ہے
غم
گساری، گریہ زاری اور ہے
پاؤں
زخمی ہو گئے تو یہ کھُلا
راستوں
کی بر دباری اور ہے
آج
شب تیری خوشی کے نام تھی
جو
ترے غم میں گزاری اور ہے
برملا
ہنسنا نجاتِ غم نہیں
شہرِ
غم سے رستگاری اور ہے
درد
کی مہماں نوازی اور تھی
ضبط
کی تیمار داری اور ہے
اب
یہاں بکھرا ہوا ہے اور کچھ
چار
سُو پھیلی خماری اور ہے
آپ
نے قصّہ سُنا ہے اور ہی
داستاں
جو تھی ہماری اور ہے
اُسکا
یوں دامن چھُڑا لینا نہیں!
زین
وجہ دل فگاری اور ہے
زینؔ شکیل
آزاد
غزل
ضبط
کرنے والے بھی
کیا
کمال ہوتے ہیں
خواہشوں
کے چنگل سے
کون
بچ کے نکلا ہے
دل
کو شاد رکھتی ہے
بے
سبب اداسی بھی
بہہ
گیا ہے جانے کیوں
ضبط
میری آنکھوں سے
میں
جہاں بھی رہتا ہوں
بے
شمار رہتا ہوں
تم
اداس رہنے میں
کیوں
بلا کے ماہر ہو؟
دیکھ
تیرا چہرہ بھی
خواب
میں سلامت ہے
لوگ
ہی تو کہتے ہیں
تُو
گلے بھی ملتا ہے
تیرے
ساتھ رہنے کا
سوچتا
ہوں جانے کیوں
کچھ
غریب لوگوں کو
درد
بھی نہیں ملتے
آپ
آئیں نہ آئیں
رات
کٹ ہی جائے گی
عشق
خود مسیحا ہے
یہ
خبر نہ تھی پہلے
درد
بولنے والے
بات
کیوں نہیں کرتے
لذتِ
محبت کو
ہجر
بھانپ لیتا ہے
زینؔ شکیل
”تجھے خود سے نکالا ہے“
تجھے
محسوس کرنے کے لیے
میں
نے ہزاروں کام چھوڑے ہیں
نہ
جانے پھر بھی کیوں
مجھ
کو لگا یہ سب خسارہ ہے
مجھے
تیری محبت ڈھونگ لگتی ہے
ترے
وعدے بھی لگتا ہے
کہ
اک صدیوں پرانا خط
کسی
شوکیس میں رکھا اُٹھاؤں
دھول
مٹی صاف کر کے کھولنے بیٹھوں
لفافے
سے نکالوں اور
میرے
ہاتھ لگنے سے
وہ
کاغذ پھٹتا جاتا ہے۔!
مکمل
طور پر تو پھٹ کے چور و چور ہو جائے
سو
اس سے قبل میں نے سب پرانے خط جلائے ہیں
ترے
وعدے بھلائے ہیں
تجھے
خود سے نکالا ہے۔۔۔!
زینؔ شکیل
تیرے
غم سے استفادہ کر لیا
ہر
ارادہ، بے ارادہ کر لیا
اوڑھ
لی اپنے بدن پر چاندنی
چاند
کو اپنا لبادہ کرلیا
کروٹیں
سونے نہ دیں گی آج شب
کل
اُسے ملنے کا وعدہ کر لیا
اور
تو سب ٹھیک تھا، ہم نے مگر
بس
یقیں اُس پہ زیادہ کر لیا
میں
مکمل تھا جب اُس کے پاس تھا
اب
مجھے بھی اُس نے آدھا کر لیا
زین
اُس کو یاد آنے کے لیے
بھول
جانے کا ارادہ کر لیا
زینؔ شکیل
غمِ
فرقت کا چارہ ہی نہیں ہے
مرا
تجھ بن گزارا ہی نہیں ہے
کہاں
ہے آئینے کی راست گوئی
یہ
چہرہ تو ہمارا ہی نہیں ہے
پریشاں
زلف تھی غم میں تمہارے
اسے
ہم نے سنوارا ہی نہیں ہے
تماشہ
دیکھنے کو آئے ہیں وہ
جنھیں
ذوقِ نظارا ہی نہیں ہے
اُسے
کیوں وقت میں شامل کروں میں
اُسے
میں نے گزارا ہی نہیں ہے
ہے
اُس کی حکمرانی میرے دل پہ
جسے
دل میں اُتارا ہی نہیں ہے
اُسے
بھی زین میں سننے چلا ہوں
مجھے
جس نے پکارا ہی نہیں ہے
زینؔ شکیل
نسبتِ
محبت کیا؟ کارِ بندگی ہے کیا؟
وہ
ہے زندگی میری، میری زندگی ہے کیا؟
چاہتوں
کی لو دے کر دیپ اک جلایا تھا
کیا
تمہارے کمرے میں، اب بھی روشنی ہے کیا؟
آبرو
کی دھجیاں مفلسی اُڑاتی ہے
حوصلہ
جو دیتی ہے، میری بے بسی ہے کیا؟
غیر
سے کہا تم نے، بات مجھ سے کی ہوتی!
کیا
کوئی شکایت ہے؟ مجھ سے برہمی ہے کیا؟
آگ
بھی لگا لینا، ہاتھ بھی جلا لینا
یہ
کوئی تماشہ ہے؟ یہ بھی دللگی ہے کیا؟
مرقدِ
محبت پر، چار پھول رکھے ہیں
آخر
ان گلابوں سے تیری دشمنی ہے کیا؟
کون
سے خیالوں میں شب گزار دیتے ہو؟
زین
رتجگوں سے بھی، تیری دوستی ہے کیا؟
زینؔ شکیل
جسم
سے روح کا جدا ہونا
کتنا
آساں ہے بے وفا ہونا
گُر
نہ آیا مجھے منانے کا
اُس
نے سیکھا فقط خفا ہونا
کوئی
ذرہ کہیں نہ رہ جائے
تم
ذرا ٹھیک سے جدا ہونا
مشق
جاری ہے غلط ہونے کی
سیکھ
جائیں گے ہم بجا ہونا
اچھے
اچھوں کا فیض پایا ہے
ہم
کو اچھا لگا بُرا ہونا
آفتِ
دل بھی روح پرور ہے
تم
کبھی صبر آزما ہونا
حوصلے
کا پہاڑ ہوتا ہے
چند
لمحوں کا آسرا ہونا
آج
شاید تری سُنی جائے
آج
تم محوِ التجا ہونا
بس
خلاصی ہے ایک ہونے میں
مار
دیتا ہے دوسرا ہونا
لوگ
نظریں جمائے رکھتے ہیں
کیا
مصیبت ہے دلربا ہونا
زین،
ہے گیت گنگنانا بھی
اُس
کا ہونٹوں سے بس ادا ہونا
زینؔ شکیل
تو
اداس کر یا اداس رہ، مرے پاس رہ
مری
آرزو، مری جستجو، مجھے راس رہ
مجھے
توڑ تاڑ کے پھینک دے کسی شاخ سے
تو
بکھیر شوق سے کو بکو، مجھے راس رہ
مری
آگہی کا قصور ہے، کوئی دور ہے
مری
بے خبر! مری آبرو !مجھے راس ہے
غمِ
زندگی، غمِ بندگی کا ملال کیا؟
اے
نصیب! میرے حبیب تُو مجھے راس رہ!
مرا
حرف حرف طلسم ہے یہ بجا مگر
مری
ناشنیدہ سی گفتگو، مجھے راس رہ
مجھے
زین، خواب سا لگ رہی ہے وصال رت
غم
بے خودی یونہی ہو بہو مجھے راس رہ
زینؔ شکیل
Subscribe to:
Comments (Atom)





