Popular Posts

Sunday, 14 December 2014


میں رہا تنہا اکیلا، آپ اپنے حال میں
بے کراں سا درد جھیلا، آپ اپنے حال میں

آفتیں، کٹھنائیاں رختِ سفر ہوتی گئیں
لگ گیا زخموں کا میلہ، آپ اپنے حال میں

ہم نے یہ اچھے سے جانا جب ہوا لازم سکوت
ضبط تھا کتنا اکیلا،آپ اپنے حال میں

حسرتوں کے بحر میں، ٹکرا رہا ہے جابجا
خواہشوں کا سرد ریلا، آپ اپنے حال میں

میں جو دریا پار اترا، دیکھ کر حیرت ہوئی
رو رہا تھا ایک بیلا، آپ اپنے حال میں

کون جانے درد کی ویراں شبوں میں جاگتے

زین تنہائی سے کھیلا، آپ اپنے حال میں

زینؔ شکیل

No comments:

Post a Comment