Popular Posts

Sunday, 14 December 2014


شہرِ آشوب سے ڈرا ہوا ہوں
غم کی دہلیز پہ پڑا ہوا ہوں

یاد آنے پہ وہ نہیں راضی
یاد کرنے پہ میں اڑا ہوا ہوں

آج تارے خموش ہیں سارے
آج میں بام پہ کھڑا ہوا ہوں

اے مری سانس روکنے والے
دیکھ پہلے سے میں مرا ہوا ہوں

اب کے شاید ہی میں سلجھ پاؤں
میں کسی زلف سے لڑا ہوا ہوں

وہ جہاں لوٹ آنے والا تھا
اب تلک میں وہیں کھڑا ہوا ہوں

زین کوئی مرا پتا لا دے
میں بھلا کس جگہ دھرا ہوا ہوں؟

زینؔ شکیل

No comments:

Post a Comment