غم
کی زنجیر ہلانے والو
آؤ
اب زہر پلانے والو
اب
مرے حال پہ ہنستے کیوں ہو؟
مجھ
کو رو رو کے بلانے والو!
بھولنے
میں ہو بلا کے ماہر
اے
مجھے یاد دلانے والو
اب
کسی صبح کا چہرہ دیکھو
زلفِ
جاناں کے ٹھکانے والو
اب
تو میں شہر میں رہتا ہی نہیں
اب
توخوش ہو نا زمانے والو
اپنی
آنکھوں کو بچا کر رکھنا
زین
کی خاک اُڑانے والو
زینؔ شکیل
No comments:
Post a Comment