فرمائش
افسردہ سی شکل بنا کر
مجھ سے بولی
اتنے دن تو بیت گئے ہیں
مجھ پر کوئی نظم نہیں ہے
کیا میں نہیں ہوں شعر تمہارا؟؟
کیا میں غزل کا مطلع نہیں تھی؟؟
چاند , ہوا, تاروں ,پھولوں سے
مجھ کو جب تشبیہہ دیتے تھے,
میں بھی ردیف تمہاری بن کر,
قافیے کے سنگ ہو رہتی تھی,
اور تخلص میں بھی تمہارے
اک دو نقطے میرے بھی تھے..
یاد ہے تم کو ہائیکو لکھ کر
میرے نام کیا کرتے تھے...
تیرے شعر کا اک اک مصرعہ
میرے گرد پھرا کرتا تھا...
اب بھی سارے لفظ تمہارے
مجھ میں ایک بِحر کی مانند
رفتہ رفتہ بہتے بھی ہیں...
اور میں تیرا مقطع بن کر
تیری حد میں رہ جاتی ہوں...
آج مگر اک فرمائش ہے...
مجھ پر پھر سے شعر لکھو تم.
جس میں میرا اور تمہارا
ساتھ ہو اجلے پانی جیسا
شیشے جیسا صاف ہو لیکن
شیشے جیسا جھوٹا نہ ہو....
اتنے دن تو بیت گئے ہیں...
آج مجھے پھر سے لکھو نا......!
شاعر: زین شکیل
No comments:
Post a Comment