چار سو ہے فشار سانسوں کا
کب رہا اعتبار سانسوں کا
حال احوال پوچھتا ہوں جناب
میں ہوں تیمار دار سانسوں کا
کٹ گئی ہجر کی اذیت بھی
رہ گیا انتظار سانسوں کا
منتظرہے رفو گری کے لیے
دامنِ تار تار سانسوں کا
کون روتا ہے دھت اندھیروں میں
کون ہے بے قرار سانسوں کا
عمر گزری ترے خیالوں میں
کب کیا ہے شمار سانسوں کا
چند لمحوں کی مار ہے پیارے
زین تُو بھی شکار سانسوں کا
------------------
زین شکیل
No comments:
Post a Comment