Popular Posts

Wednesday, 10 December 2014



چار سو ہے فشار سانسوں کا
کب رہا اعتبار سانسوں کا

حال احوال پوچھتا ہوں جناب
میں ہوں تیمار دار سانسوں کا

کٹ گئی ہجر کی اذیت بھی
رہ گیا انتظار سانسوں کا

منتظرہے رفو گری کے لیے
دامنِ تار تار سانسوں کا

کون روتا ہے دھت اندھیروں میں
کون ہے بے قرار سانسوں کا

عمر گزری ترے خیالوں میں
کب کیا ہے شمار سانسوں کا

چند لمحوں کی مار ہے پیارے
زین تُو بھی شکار سانسوں کا
------------------
زین شکیل

No comments:

Post a Comment