آزاد
غزل
تری
بے دھیانی کے سلسلے
وہی
کُو بکو ، وہی جا بجا
کسی
لامکاں کے مکان میں
کسی
اور درد کا درد ہے
مری
زندگی کے سوال کا
کبھی
مسکرا کے جواب دے
کبھی
کرچیوں پہ قدم پڑا
تو
لہو نے ساتھ نہیں دیا
میں
گلے لگاتا ہوں شوق سے
مجھے
درد ملتا ہے روز ہی
مجھے
تیرا غم تو نہیں ملا
مجھے
تیرے غم کی شبیہ ملی
یہاں
ابتدا سے بھی پیشتر
کسی
انتہا کا مقام ہے
میں
بکھر گیا کہیں ٹوٹ کر
مری
کرچیوں کو سمیٹ لے
مری
سانس سانس گواہ ہے
ترا
نام لیتا ہوں ہر گھڑی
ترا
نام میں نے لیا نہیں
ترا
درد روٹھا ہے شام سے
مرے
ماہ و سال تمام کر
مری
آبرو کا حساب دے
ترا
وصل ایک مزاج تھا
کہیں
لڑ جھگڑ کے چلا گیا
ترا
ہجر رہتا ہے رو برو
مرا
حوصلہ بھی عجیب ہے
مری
زندگی کے حسین پل
تری
آ رزو میں بکھر گئے
مجھے
تجھ سے کوئی گلہ نہیں
مجھے
درد سہنے کا شوق تھا
مرے
آر پار کا وقت ہے
مرے
آس پاس رہا کرو
تجھے
بھول جانے کا حوصلہ
کسی
غم کے دشت میں کھو گیا
کہیں
چپ رہا ، کہیں ہنس دیا
میں
ذرا ذرا کہیں رو گیا
زینؔ شکیل
No comments:
Post a Comment