Popular Posts

Sunday, 14 December 2014


"مجھے آج سوہنی کا پیغام آیا"
سنبھل کر گزرنا
کہ دشوار ہیں یہ حقیقت کی راہیں
سمندر محبت کا بے انت گہرا
سنبھل کر اترنا
ہزاروں تسلی، توقع ، یقیں ہو
مگر جب کوئی لہر ٹکرائے گی تو
یہ احساس ہوگا
گھڑا تو ہے کچا...
مگر جذب و مستی میں ڈوبے ہوئے کو
گھڑوں سے کیا مطلب؟؟؟
گھڑا ٹوٹ جائے تو آساں ملن ہے
کہ پکے گھڑے والے کہنے لگے تھے
ان الحق ہوں میں
تو سولی چڑھے تھے...
گھڑا توڑ بیٹھے....
فقط عشق واجب
فقط فرض ہے یہ
اسی کو پڑھا کر!
اسی کو ادا کر!
تو اس کے لیے ہے
یہ تیرے لیے ہے...
عقیدت،ارادت، شریعت، طریقت
اسی میں چھپی ہے..
کہ والیل زلفیں،
وہ والفجر چہرہ،
وہ دندانِ یٰسیں
سراجُ منیرا
یہی کچھ ہے مطلوب و مقصود پیارے
عشق اور کیا ہے...؟
مگر راہ کٹھن ہے...
تجھے یاد ہے نا...
کہ بارہ برس چاکری کرنے والے
بھی جوگی بنے تھے...
یہ راہیں کٹھن ہیں...
تجھے بھی بہت سارے قیدو ملیں گے...!
سنبھل کر گزرنا.....
کہیں مت ٹھہرنا..
کچے گھڑوں کی نہ پرواہ کرنا
سنبھل کر اترنا..
فقط تیرا دامن نہ میلا ہوا ہو..
سمندر کی لہریں بھی دھو نہ سکیں گی
لگن ہے جو سچی ،
سمندر کی لہریں ڈبو نہ سکیں گی...
ماہیوال کا مت تصور ہٹے بس
بنا سوچے سمجھے...
اترتے ہی جانا....
"گھڑا ٹوٹ جائے تو آساں ملن ہے"
مگر یاد رکھنا

"ڈگر یہ کٹھن ہے"

زینؔ شکیل

No comments:

Post a Comment