شیوہءعشق
دلبری کرنا
تیرے
کوچے کی رہبری کرنا
بخت
کو لا زوال کرنا ہے
اُن
کے چاکر کی چاکری کرنا
آنکھ
تو بے سبب نہیں پُرنم
دل
کی عادت ہے مخبری کرنا
جان
سے میں گزر گیا لیکن
اُس
نے چھوڑا نہ بے رُخی کرنا
وہ
کہیں بدگماں نہ ہو جائے
زین
ہر بات سرسری کرنا
زینؔ شکیل
No comments:
Post a Comment