Popular Posts

Sunday, 14 December 2014


تیرے غم سے استفادہ کر لیا
ہر ارادہ، بے ارادہ کر لیا

اوڑھ لی اپنے بدن پر چاندنی
چاند کو اپنا لبادہ کرلیا

کروٹیں سونے نہ دیں گی آج شب
کل اُسے ملنے کا وعدہ کر لیا

اور تو سب ٹھیک تھا، ہم نے مگر
بس یقیں اُس پہ زیادہ کر لیا

میں مکمل تھا جب اُس کے پاس تھا
اب مجھے بھی اُس نے آدھا کر لیا

زین اُس کو یاد آنے کے لیے

بھول جانے کا ارادہ کر لیا

زینؔ شکیل

No comments:

Post a Comment