درد
فرصت میں عجب کام کیے رکھتا ہے
حوصلہ
ہی مجھے ناکام کیے رکھتا ہے
میں
جو بنتا ہوں، سنورتا ہوں، بگڑ جاتا ہوں!
آ
ئینہ ہی مجھے بدنام کیے رکھتا ہے!
میں
ترے نام کو لکھتا ہوں لکھے جاتا ہوں
بس
یہی کام مرا نام کیے رکھتا ہے
نہ
کوئی آہ نکلتی ہے نہ اُٹھتی ہے نظر
وہ
مکمل مرا انجام کیے رکھتا ہے
پھیل
جاتے ہیں بڑی دور تلک افسانے
وہ
تو نظروں کو بھی پیغام کیے رکھتا ہے
زین
تم خاص بہت خاص ہو لیکن پیارے
یہ
ترا ذوق تجھے عام کیے رکھتا ہے
زینؔ شکیل
No comments:
Post a Comment