Popular Posts

Sunday, 14 December 2014


درد فرصت میں عجب کام کیے رکھتا ہے
حوصلہ ہی مجھے ناکام کیے رکھتا ہے

میں جو بنتا ہوں، سنورتا ہوں، بگڑ جاتا ہوں!
آ ئینہ ہی مجھے بدنام کیے رکھتا ہے!

میں ترے نام کو لکھتا ہوں لکھے جاتا ہوں
بس یہی کام مرا نام کیے رکھتا ہے

نہ کوئی آہ نکلتی ہے نہ اُٹھتی ہے نظر
وہ مکمل مرا انجام کیے رکھتا ہے

پھیل جاتے ہیں بڑی دور تلک افسانے
وہ تو نظروں کو بھی پیغام کیے رکھتا ہے

زین تم خاص بہت خاص ہو لیکن پیارے

یہ ترا ذوق تجھے عام کیے رکھتا ہے

زینؔ شکیل

No comments:

Post a Comment