لفظوں
میں مت کھویا کر
ہاتھ
میں ہاتھ پرویا کر
چاہے
میرے آنسو ہوں
چھپ
چھپ کے مت رویا کر
جس
میں عین جدائی ہو
ایسی
نیند نہ سویا کر
میرے
میلے کپڑوں کو
اپنی
آنکھ سے دھویا کر
میرے
چند خیالوں میں
کبھی
کبھی تو کھویا کر
بنجر
درد زمینوں میں
سُکھ
کا پودا بویا کر
زین
کبھی خاموشی سے
شور
مچا کے رویا کر
زینؔ شکیل
No comments:
Post a Comment