زَک
اٹھا لیتا ہوں ، آ زار سے لگ جاتا ہوں
میں
جو ہر روز درِ یار سے لگ جاتا ہوں
روز
ہی مجھ کو ستانے کو وہ آ جاتا ہے
میں
بھی اس لمحہءبے زار سے لگ جاتا ہوں
دل
میں رہنے کا ہنر بھی نہیں آتا جس کو
جانے
کیوں میںاسی دلدار سے لگ جاتا ہوں
مرض
دل کا مجھے تنہا نہیں ہونے دیتا
بات
کرنے دلِ بیمار سے لگ جاتا ہوں
ایک
ساحل ہے کہ دریا میں اترنے ہی نہ دے
میں
بھی دریا کے اِسی پار سے لگ جاتا ہوں
سامنے
جب وہ گوارہ نہیں کرتا مجھ کو
زین
چپ چاپ میں دیوار سے لگ جاتا ہوں
زینؔ شکیل
No comments:
Post a Comment