تو
اداس کر یا اداس رہ، مرے پاس رہ
مری
آرزو، مری جستجو، مجھے راس رہ
مجھے
توڑ تاڑ کے پھینک دے کسی شاخ سے
تو
بکھیر شوق سے کو بکو، مجھے راس رہ
مری
آگہی کا قصور ہے، کوئی دور ہے
مری
بے خبر! مری آبرو !مجھے راس ہے
غمِ
زندگی، غمِ بندگی کا ملال کیا؟
اے
نصیب! میرے حبیب تُو مجھے راس رہ!
مرا
حرف حرف طلسم ہے یہ بجا مگر
مری
ناشنیدہ سی گفتگو، مجھے راس رہ
مجھے
زین، خواب سا لگ رہی ہے وصال رت
غم
بے خودی یونہی ہو بہو مجھے راس رہ
زینؔ شکیل
ReplyDeleteمری آگہی کا قصور ہے، کوئی دور ہے
مری بے خبر! مری آبرو !مجھے راس ہے